Showing posts with label Dr. Zulfiqar Mirza. Show all posts
Showing posts with label Dr. Zulfiqar Mirza. Show all posts
Thursday, September 1, 2011
Monday, August 29, 2011
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کو ہمیشہ تشدد میں جکڑے ہوئے شہر کراچی کا مشکل کشاء سمجھا جاتا ہے مگر سندھ کے سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے آج انہیں مسئلے کا ایک جز قرار دے دیا ہے۔
صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی، قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا کے شوہر اور سندھ کے سابق سینیئر صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے الزامات محض باتیں ہیں یا اس کے پیچھے صداقت کا بھی عمل دخل ہے؟ پریس کانفرنس کے بعد مختلف ٹی وی چینلز پر یہی بحث ہوتی رہی۔کراچی کے پرتشدد واقعات کے گرفتار ملزمان کی جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹس ڈاکٹر مرزا کی پریس کانفرنس سے پہلے بھی مختلف اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں اور اب یہ رپورٹس ویب سائیٹس پر بھی دستیاب ہیں۔ صحافی بابر ولی کے قتل میں گرفتار ملزمان کی وابستگی بھی وہ پہلے ظاہر کرچکے ہیں، اگر اس بار نئی بات تھی تو امریکہ کے کردار اور کراچی میں رحمان ملک کی مداخلت کی باتیں تھیں جو اس سے پہلے وہ کابینہ کے بند اجلاسوں میں کرتے آئے ہیں۔
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی موجودگی میں صوبائی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں بھی ذوالفقار مرزا کی رحمان ملک سے تلخی کی خبریں باہر نکلیں اور یہ رپورٹ ہوا کہ انہوں رحمان ملک کو کہا کہ وہ ایم کیو ایم کی طرف داری نہ کریں اور کراچی آنا چھوڑ دیں۔ لیکن اس اجلاس کے بعد دونوں نے بغل گیر ہوکر پریس کانفرنس کرکے تلخیوں کی تردید کی۔
سندھ کے سینیئر وزیر مستعفی، رحمان ملک پر کڑی تنقید
ذوالفقار مرزا نے تمام عہدوں سے استعفٰی دے دیا۔
سندھ کے سینئر صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کابینہ اور اس کے ساتھ ساتھ سندھ اسمبلی کی رکنیت سے بھی مستعفی ہونے کا علان کیا۔ ذوالفقار مرزا نے پیپلزپارٹی کے سندھ کے سینئر نائب صدر کے عہدے سے بھی استعفٰی دینے کا اعلان کیا۔
سندھ کے وزیرِ اعلیٰ قائم علی شاہ کے جو پیپلزپارٹی سندھ کے صدر بھی ہیں، پریس سیکریٹری وقار مہدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ذوالفقار مرزا کا پارٹی کے عہدے سے استعفٰی منظور کرلیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک ذوالفقارمرزا نے کابینہ سے جو استعفٰی دیا ہے وہ وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کو نہیں ملا ہے جب ملے گا تو پھر اسے گورنر کو منظوری کے لیے بھیج دیا جائے گا۔ سندھ اسمبلی کی رکنیت سے استعفٰی سپیکر اسمبلی کے نام لکھا جاتا ہے اور اس کی منظوری کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار حسن کاظمی نے بتایا کہ ذوالفقارمرزا نے یہ پوری پریس کانفرنس قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر کی اور کہا کہ وہ جو بھی کہہ رہے ہیں اسے سچ سمجھا جائے۔ ان کی یہ پریس کانفرنس دوگھنٹے جاری رہی جس میں سے ڈیڑھ گھنٹہ ذوالفقار مرزا نے خطاب کیا۔
جب لندن میں میری الطاف حسین سے ملاقات ہوئی جس میں پیر مظہرالحق بھی موجود تھے تو الطاف حسین نے کہا تھا کہ امریکہ پاکستان توڑنا چاہتا ہے اور ایم کیو ایم اس معاملے میں امریکہ کے ساتھ ہے اس لیے وہ کراچی میں پٹھانوں کو مارنا نہیں چھوڑ سکتے۔
ذوالفقار مرزا
انہوں نے ایم کیو ایم پر دوسرا سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس سال تیرہ جنوری کو کراچی میں نجی چینل جیو نیوز کے رپورٹر ولی خان بابر کے قتل میں بھی متحدہ قومی موومنٹ ہی ملوث ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ قاتل گرفتار ہوچکے ہیں جبکہ ایک قاتل جس کا نام لیاقت ہے وہ مفرورہے مگر واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی مل چکی ہے۔ انہوں نے بعد ازاں پانچ گرفتار افراد کی فائل اور دیگر ثبوت بھی کچھ صحافیوں کو دکھائے۔
انہوں نے اپنی اس پریس کانفرنس میں وفاقی وزیرِ داخلہ رحما ن ملک پر بھی انتہائی سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ رحمان ملک کراچی میں قاتلوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور کئی ٹارگٹ کلرز کو رہا کرا چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کے ثبوت صدر زرداری، وزیراعظم گیلانی اور آرمی چیف کو پیش کرنے کو تیار ہیں۔
’رحمان ملک مداری ہے وہ ہر جگہ جاکر روتا رہتا ہے کہ پاکستان کو نقصان ہوگا اور حکومت چلی جائے گی۔‘ انہوں نے کہا کہ رحمان ملک کی ’شعبدہ بازیوں‘ کی وجہ سے وہ کئی مرتبہ چپ ہوجاتے تھے مگر اب وہ چپ نہیں رہیں گے ان کا کہنا تھا کہ رحمن ملک حقائق مسخ کر کے پیش کرتے ہیں۔
رحمان ملک کا پاکستان میں کچھ نہیں ہے نہ اس کی جائیداد یہاں ہے نہ ہی اس کا خاندان یہاں ہے اس لیے وہ پاکستان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
ذوالفقار مرزا
ذوالفقار مرزا نے کہا کہ کراچی اور حیدر آباد میں ایم کیو ایم کو سو فیصد مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔’یہ جعلی مینڈیٹ ہے جو بندوق اور دھاندلی کے بل بوتے پر بنایا گیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی ان کی وزارت ایم کیو ایم کی بلیک میلنگ کی وجہ سے تبدیل کی گئی تھی۔ انہوں نےکہا کہ وہ کراچی کے عوام کو انصاف دلانے کے لیے کام کریں گے۔
میری زندگی کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔ اگر مجھے کچھ ہوا تو وہی لوگ ذمہ دار ہوں گے جو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں اور جنہوں نے عمران فاروق کو مروایا ہے۔
ذوالفقار مرزا
انہوں نے مزید کہا کہ وہ مسلمان ہیں اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور امام حسین کے نقش قدم پر چلنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
کراچی میں تقریباَ َ دو سال پہلے اٹھائیس دسمبر دوہزار نو کو عاشورہ کے جلوس میں ہونے والے دھماکے کے بارے میں ذوالفقار مرزا کا کہنا تھا کہ اس بارے میں اجمل پہاڑی کی ویڈیو ان کے پاس ہے جو چاہے وہ اسے دکھا سکتے ہیں جس میں اس نے انکشاف کیا ہے کہ ہماری پارٹی نے کہا تھا کہ دس محرم کو کچھ ہوگا جس کے بعد آپ نے لوٹ مار کرنی ہے اور آگ لگانی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا پیپلز پارٹی سے کوئی اختلاف نہیں ہے اور وہ پارٹی کے کارکن ہیں اور رہیں گے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے پریس کانفرنس کے فوراََ َ بعد ہی لندن اور کراچی میں بیک وقت ہنگامی اجلاس بلایا جو تاحال جاری ہے۔
سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ انتیس اگست سے کراچی میں قتل و غارت گری کے مقدمے کی سماعت کے لیےکراچی پہنچ چکا ہے۔
چیف جسٹس کراچی میں
وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ذوالفقار مرزا کے بیان پر کہا ہے کہ یہ ان کا ذاتی بیان سے جس کا حکومت یا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یاد رہے کہ کل سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ کراچی میں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری قتل و غارت گری پر از خود نوٹس کی سماعت کراچی میں کر رہا ہے اور اس سلسلے میں چیف جسٹس کراچی پہنچ چکے ہیں۔
اس مقدمے میں اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی اور ایم کیو ایم نے اس مقدمے میں فریق بننے کے لیے درخواست دی ہے۔
اس مقدمے کی پہلی سماعت چھبیس اگست کو اسلام آباد میں ہوئی تھی جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ عدالت انتیس اگست سے اس از خود نوٹس کی سماعت کراچی میں کرے گی کیونکہ عوام نے کیس کے نتائج پر نظریں جما رکھی ہیں اور چیف جسٹس نے کہا تھا کہ اگر عدالت کو عید کی چھٹیوں کے دوران بھی اس از خود نوٹس کی سماعت کرنا پڑی تو اس سے دریغ نہیں کرے گی۔
Subscribe to:
Posts (Atom)